Sesame Farming

تل کی فصل زیادہ تر مئی سے جولائی کے دوران کاشت کی جاتی ہے جبکہ کچھ اقسام پہلے بھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

AGRICULTURE

Gul Munir Channa

3/23/20231 min read

تل/تلی کی پیداوار

کسان بھائیوں جیسا کہ کچھ سالوں سے تل کی کاشت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ اب اہم نقد آور فصل اختیار کرتی جارہی ہے تو لازم ہے کہ کسان بھائی اس فصل کی پیداواری ٹیکنالوجی سے لازمی باعلم ہوں تاکہ اچھی پیداوار حاصل کرسکیں۔
وقت کاشت

تل کی فصل زیادہ تر مئی سے جولائی کے دوران کاشت کی جاتی ہے جبکہ کچھ اقسام پہلے بھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

اقسام

تل عموماً شاخ دار اور ایک شاخ والی اقسام پر مشتمل ہوتی ہیں۔ تل کی TS 3، TS 5, TH 6 جیسی بہتریں پیداوار دینے والی اقسام شامل ہے۔

زمین کا انتخاب اور تیاری

کسان بھائیوں میرا اور زرخیز زمیں جس میں پانی کی نکاسی اچھی ہوتی ہو تل کی کاشت کے لیے موزوں تریں ہے۔ جبکہ سیم زدہ، اور ایسی زمین جس میں پانی دیر تک کھڑا رہے وہاں اسکی کاشت بلکل نا کریں۔ کیونکہ ایسی زمین میں پانی لگانے کے کچھ وقت بعد ہی پودے مرجھانا شروع کردیں گے۔

شرح بیج

تل کا عموماً ڈیڑھ سے دو کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جاتا ہے اور بوقت کاشت لازمی طور پر بیج کو کسی اچھی فنجیسائیڈ جیسے تھائیوفینیٹ سے لازمی ٹریٹمنٹ کروائیں تاکہ جڑ اور تنے کی سٹراند اور اکھیڑا سے فصل کو بچایا جاسکے۔

طریقہ کاشت

وتر آنے پر زمیں کو دہرا ہل چلا کر سہاگے سے تیار کریں بجائی کے وقت لازمی طور پر ایک بوری ڈی اے پی یا زور آور یا دو بوری نائیٹروفاس اور ساتھ ایک بوری پوٹاش دیں۔ اور کوشش کریں کہ بزریعہ ڈرل اسکی کاشت شام کو کریں اگر ڈرل میسر نا ہو تو چھٹے سے بھی کام چلایا جاسکتا ہے البتہٰ چھٹہ دے کر بعد میں پیاز والی کھیلیاں رجر سے نکال دیں تو بہترین عمل رہے گا۔ اس سے پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ پانی لگنے کے بعد پودوں کے ایک دم مرجھانے کے عمل سے بھی بچا جاسکے گا۔ ۔

چھدرائی

بجائی کے تقریبا ً ایک ہفتہ بعد کوشش کریں کہ چھدرائی کا عمل کروا دیں۔ اور پودوں کا آپس کا فاصلہ 6 انچ تک کروادیں۔

آبپاشی اور کھادوں کا استعمال

کسان بھائیوں زیادہ پانی اور زیادہ بارشیں اور زیادہ دیر پانی کھڑا رہنا تل کی فصل کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

پہلا پانی عموماً کاشت کے بیس دن بعد آدھی بوری یوریا یا امونیم سلفیٹ ڈال کر لگایا جائے اور دوسرا پانی 20 دن کے وقفے سے آدھی بوری یوریا کے ساتھ دیا جائے۔ جبکہ تیسرا پانی سادہ دوسرے پانی سے دو ہفتوں کا وقفہ رکھ کر کروائیں۔ جبکہ چوتھا پانی پھل لگنے کے دوران لازمی لگا دیں اور اس سٹیج پر کوتاہی بلکل نا کریں۔۔ تاہم اس دوران اگر اچھی بارشیں ہوجائیں تو تیسرا اور چوتھا پانی لگانے کا فیصلہ تل کے حالات دیکھتے ہوئے کریں۔ اور بارش کی صورت میں بلاوجہ پانی لگانے سے گریز کریں۔تل کی فصل ساڑھے تین ماہ تک تیار ہوجاتی ہے۔ اس موقع پر بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ تل کی ڈوڈیاں کھلنے سے پہلے پہلے تل کی کٹائی کروا لی جائے۔ عموماً پودے کی جب آدھی ڈوڈیاں زردی مائل ہوجائیں تو اس کی کٹائی لازمی کروادیں۔ اور چھوٹی گانٹھیں بنا کر ان کو سیدھا کھڑا کردیں تاکہ دھوپ سے ڈوڈیاں کھل جائیں اور تل جھاڑے جا سکیں۔

نقصان دہ کیڑے
تل کی فصل پر ضرر رساں کیڑے سپرڈ گب، پتہ لپیٹ سنڈی اور چست تیلہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تل پربیماریاں تل کا بٹور اور تنے کا گلنا جیسی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔ جس کے لیے مارکیٹ میں مؤثر زہر موجود ہیں